ست[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - صداقت، راستی، سچائی۔ "ست (سچائی) پڑھو یہ (پڑھنے والا)۔"      ( ١٩٨٣ء، تنقیدی اور تحقیقی جائزے، ٥٥ ) ٢ - عصمت، پاک دامنی، پارسائی۔ "اے وفادار لڑکی تیرے ست کے ہم قائل ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، دلہن مریم، ٣٤ ) ٣ - استواری، استقامت، استحکام۔ "رانی ات دکھ پائے پچھتائے کے بولی ارے. چانڈال تو نے یہ کیسا اَدھرم کیا جو میرا ست کھو دیا۔"      ( ١٨٠٣ء، پریم ساگر، ٨ ) ٤ - دھن، لگن۔  دیس حبیب پاک کا مجھ کو دکھا دے اے خدا سر پہ یہ ست سوار ہے تو مرا کردگار ہے      ( ١٩١١ء، نذر خدا، ١٥٧ ) ٥ - خالق حقیقی، خالق مطلق، حقیقت ابدی۔ "اور ویدانت کہتا ہے کہ وہ وحدت کا اساسی امر ہے جو خالص شعور. خالص برکت (آنند) اور خالص ذات (ست) میں داخل ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ، ١١١:١ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٣٥ء سے "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - صداقت، راستی، سچائی۔ "ست (سچائی) پڑھو یہ (پڑھنے والا)۔"      ( ١٩٨٣ء، تنقیدی اور تحقیقی جائزے، ٥٥ ) ٢ - عصمت، پاک دامنی، پارسائی۔ "اے وفادار لڑکی تیرے ست کے ہم قائل ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، دلہن مریم، ٣٤ ) ٣ - استواری، استقامت، استحکام۔ "رانی ات دکھ پائے پچھتائے کے بولی ارے. چانڈال تو نے یہ کیسا اَدھرم کیا جو میرا ست کھو دیا۔"      ( ١٨٠٣ء، پریم ساگر، ٨ ) ٥ - خالق حقیقی، خالق مطلق، حقیقت ابدی۔ "اور ویدانت کہتا ہے کہ وہ وحدت کا اساسی امر ہے جو خالص شعور. خالص برکت (آنند) اور خالص ذات (ست) میں داخل ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ، ١١١:١ )

جنس: مذکر